4 اگست 2012 - 19:30

شیعہ مرجع تقلید نے شام میں مسلح دہشت گردوں کی کاروائیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: شام میں جاری جنگ نئی احزاب کی تیسری جنگ ہے جو اسرائیل، امریکہ، سعودی عرب، قطر اور ترکی نے شروع کررکھی ہے اور وہ ماہ مبارک رمضان میں عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی نے پندرہ رمضان بروز ہفتہ حرم مطہر حضرت کریمۂ اہل بیت فاطمہ معصومہ سلام اللہ میں زائرین اور مجاورین کی موجودگی ميں اپنے درس تفسیر قرآن کے ضمن میں امام حسن مجتبی علیہ السلام کی ولادت با سعادت کے موقع پر حاضرین کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے سب کے لئے امام حسن علیہ السلام کی حیات طیبہ کے مختلف پہلوؤں سے عملی استفادہ کرنے کی امید ظاہر کی اور سورہ احزاب کی آیت 9 "يا أَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيكُمْ إِذْ جَاءَتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيهِمْ رِيحًا وَجُنُودًا لَمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا" کی تفسیر جاری رکھتے ہوئے کہا: یہ آیت جنگ احزاب اور خرافات اور توہمات کے خلاف جہاد کی ابتدائی آیات میں سے ہے؛ سورہ احزاب میں بارہ موضوعات پر بحث ہوئی ہے جن میں سے دو موضوعات کا تعلق جنگ احزاب سے ہے اور قرآن مجید نے 17 آیتوں میں جنگ احزاب کے واقعے کی تشریح فرمائی ہے۔انھوں نے کہا: جنگ احزاب میں تمام اسلام دشمن عرب گروہ، جماعتیں اور قبائل و اقوام نے اتحاد قائم کیا اور اس جنگ کا اصلی محرک یہودی قبیلہ "بنی نضیر" تھا جس نے دوسرے عرب قبائل کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا۔آیت الله العظمی مکارم شیرازی نے کہا: ہمارے ملک ـ اسلامی جمہوریہ ایران ـ کے خلاف جنگ احزاب دہرائی گئی جس میں ایران کے مدمقابل صدام تنہا نہ تھا بلکہ جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد ایسے بہت سے شواہد موجود ہیں جن سے معلوم ہوا کہ یہ جنگ احزاب کی جنگ تھی اور اس بار بھی اس جنگ میں شریک تمام احزاب اور جماعتیں اور قوتیں ناکام ہوگئیں گوکہ ہمیں بھی اس جنگ میں بہت سے نقصانات اٹھانے پڑے۔ انھوں نے کہا: آج بھی جنگ احزاب جاری ہے اور یہ جنگ شام میں لڑی جارہی ہے؛ اسرائیل، امریکہ، برطانکہ، سعودی عرب، قطر اور ترکی نے نئی جنگ احزآب کا آغاز کررکھا ہے اور آج رمضان کے مہینے میں عوام کا قتل عام کررہے ہیں۔ انھوں نے شام میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا: ان شاء اللہ اس جنگ میں بھی احزاب سب مل کر ناکام ہونگی اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی مدد فرمائے اور شامی قوم دہشت گردوں کے خلاف اپنی اس لڑائی میں کامیاب ہوجائیں گے۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے کہا: ہمیں خبر ملی ہے کہ شام میں مسلح افواج کے ہمراہ پچاس ہزار رضاکار بھی مسلح دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں شریک ہیں اور ہمیں امید ہے کہ شام ان دہشت گردوں کے چنگل سے نجات پائے اور اس ملک میں جاری اصلاحات عملی طور پر نافذ کئے جاسکیں۔انھوں نے کہا: اسلام کم قیمت پر حاصل نہيں ہوا ہے اور ہزاروں مشکلات اور رکاوٹوں نے مل کر ہم تک پہنچنے والے اسلام کو نیست و نابود کرنے کی بہتیری کوششیں کی ہیں اور اس اسلام کو آسانی سے دشمن کے سپرد نہيں کیا جاسکتا۔ آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی نے آخر میں امام حسن مجتبی علیہ السلام کی شخصیت کی تین اہم خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: امام حسن علیہ السلام بہت زیادہ حلیم اور بردبار تھے، بہت زیادہ کریم اور سخی تھے اور بہت زیادہ عبادت گزار تھے اور آپ (ع) کی عبادت کی اپنی خصوصیات تھیں۔ آپ (ع) نے 25 بار خانہ کعبہ اور بیت اللہ الحرام کی زیارت کی اور آپ (ع) حج بیت اللہ بجا لایا اور گرمی اور سفر کی دشواریوں کے باوجود کئی حج پائے پیادہ بجالائے۔ ........./110